اس کے پاس مال نہيں ہے اورکسی دوسرے کی جانب سے معاوضہ کے ساتھ حج کرنا چاہتا ہے
ایک شخص نے اپنا فریضہ حج ادا نہيں کیا ، اورنہ ہی اس کے پاس حج کےلیے مال ہے ، توکیا اس کے لیے معاوضہ حاصل کرکے کسی میت یا بوڑھے کی جانب سے حج کرنا جائز ہے ؟
الحمد للہ
کسی شخص کےلیے جائز نہيں کہ وہ اپنا فریضہ حج ادا کیے بغیر کسی دوسرے کی جانب سے حج
ادا کرے ، اس کی دلیل ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما کی مندرجہ ذیل حدیث ہے :
ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم
نے سنا کہ ایک شخص کہ رہا تھا : لبیک عن شبرمہ میں شبرمہ کی طرف سے حاضر ہوں ،
تونبی صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے :
کیا تونے اپنی طرف سے حج کی ادائيگي کرلی ہے ؟ وہ شخص کہنے لگا نہيں ، نبی صلی
اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنی طرف سے حج ادا کرو اورپھرشبرمہ کی جانب سے ادا
کرنا ۔
اسے ابوداود نے روایت کیا ہے ، اورعلامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے ارواء الغلیل
میں صحیح قراردیا ہے دیکھیں : الارواء ( 994 ) ۔