الحمد للہ:
جہاد بالنفس اسلام كى چوٹى اور كوہان
ہے، اور بعض علماء كرام نے تو اسے اسلام كے اركان ميں سے چھٹا ركن شمار كيا ہے.
ايك لمبى مدت سے مسلمانوں نے جہاد سے
پيچھے رہنا اور سستى كرنا شروع كر ركھى ہے، جس كى بنا پر وہ اللہ تعالى كے عذاب كا
مستحق ٹھرے اور اللہ تعالى نے ان پر ذلت و رسوائى مسلط كردى، يہ ذلت اور رسوائى اس
وقت تك ختم نہيں ہو سكتى اور مسلمان اس سے اس وقت تك نہيں نكل سكتے جب تك وہ اپنے
دين كى طرف نہ پلٹ آئيں، جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان بھى ہے:
" جب تم سودى كاروبار شروع كردو گے
اور بيلوں كى دموں كو پكڑ لو گے، اور كھيتى باڑى ميں خوشى محسوس كرو گے، اور جہاد
ترك كردو گے تو اللہ تعالى تم پر ذلت و رسوائى كو مسلط كردے گا، اور اس ذلت و
رسوائى كو تم سے اس وقت تك دور نہيں كيا جائے گا جب تك تم اپنے دين كى طرف نہيں
پلٹو گے"
سنن ابو داود حديث نمبر ( 2956 )
علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ابو داود ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.
اور تعجب والا معاملہ تو يہ ہے كہ ہم
ايسے دور ميں ہيں كہ ہم مسلمانوں ميں كچھ لوگوں كو ديكھتے ہيں كہ وہ اپنے كفار
دوستوں كے سامنے جہادى آيات اور احاديث كو ذكر كرنے ميں شرم محسوس كرتے ہيں!!
اور كفار كا جزيہ دينا، انہيں قيدى
اور غلام بنانا اور قتل كرنے والے متعلقہ احكام كو ذكر كرتے وقت ان كے منہ حياء اور
شرم سے سرخ ہو جاتے ہيں...
اور وہ يہ اميد اور خواہش كرتے ہيں
كہ كاش ( نعوذ باللہ ) كتاب و سنت سے يہ آيات اور احاديث ختم كردى جائيں، اور نكال
دى جائيں، تا كہ دنيا انہيں يہ طعنہ نہ دے كہ وہ ترقى پذير ہيں، اور ان پر بناد
پرست ہونے كا ليبل نہ لگے اور تنقيد كا سامنا نہ كرنا پڑے، كيونكہ وہ اپنے زعم اور
خيال ميں ترقى يافتہ اور شہرى كہلاتے ہيں.
اور جب وہ انہيں ختم كرنے كى استطاعت
نہ ركھ سكے تو انہوں نے ان آيات اور احاديث كى مختلف قسم كى تاويلات كرنا شروع
كردى، اور اس ميں تحريف كرنے لگے تاكہ ان كے سرداروں اور آقاؤں كے موافق ہو سكے.
ميں يہ نہيں كہتا كہ ان كى اپنى
خواہشات كے مطابق ہوں، كيونكہ يہ تو اس سے بھى كمزور ہيں كہ ان كى اپنى كوئى خواہش
ہو بلكہ وہ تو اپنے يورپى آقاؤں كے دم چھلے ہيں، اور شديد ترين جاہل ہيں، بلكہ وہ
اپنے آقاؤں اور عيسائى مشنريوں كے استادوں كى خواہشات ہيں، كيونكہ وہ دشمنان اسلام
كے پروردہ اور ان كے ماتحت ہيں.
ديكھيں: عمدۃ التفسير ( 1 / 46 ).
اور اس كے نتيجہ ميں كوئى آواز تك
نہيں سنى جاتى بلكہ صرف مندرجہ ذيل پھسپھسى سى عبارتوں كى بنبناہٹ سنى جا رہى ہے:
عالمى امن و سلامتى، امن و سلامتى كى
زندگى، امن و سلامتى كى سرحديں، نيو ورلڈ آرڈر، جنگوں كى تباہى.
اور آج ان جہاد والى آيات اور احاديث
كى بات كرنے اور اعلان كرنے والوں كو كئى قسم كى تہمتوں اور القابات سے نوازا جانے
لگا ہے: كوئى انہيں دہشت گرد كہتا ہے تو كوئى بنياد پرست، اور حد سے تجاوز كرنے
والے، اور كوئى انہيں اسلام دشمن عناصر كے نام سے ياد كرتا ہے، اور كوئى خون كے
پياسے كہتا ہے، اور كوئى كہتا ہے كہ يہ لوگ بيسويں صدى كى ترقى كے دشمن ہيں اور اسے
ختم كرنا چاہتے ہيں.
يہ ہے وہ حالت جس ميں آج امت اسلاميہ
اپنى زندگى بسر كر رہى ہے، اور اس كا سبب يہ ہے كہ ہم اپنے دين كى مدد و نصرت سے
عارى ہو چكے اور ہم نے اپنے اوپر اللہ تعالى كے واجبات كى ادائيگى سے ہاتھ كھينچ
ليا ہے.
حالانكہ اللہ سبحانہ وتعالى نے تو ہم
پر اپنے دين كى مدد و نصرت كرنا واجب كى تھى، اور دين اسلام كى حجت اور اسے غالب
كرنے كا كہا تھا، اور اپنے دشمنوں سے جہاد وقتال اور جنگ كا سبق ديا تھا.
آہ كتنى آيات ہيں جو ہميں مشركوں كے
خلاف جنگ اورجہاد و قتال كا حكم ديتى ہيں، كہ ان كے ساتھ اس وقت تك جنگ و جدال كرو
جب تك مكمل اور سارا دين اللہ كے ليے نہيں ہو جاتا، اور يہ آيات جہاد كے واجب ہونے
كى صراحت اور فرضيت كو واضح كرتى ہيں.
اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:
{تم پر جہاد و قتال فرض كيا گيا ہے،
حالانكہ وہ تمہيں ناپسند ہے، اور ہو سكتا ہے تم ايك چيز كو ناپسند كرو اور وہ
تمہارے ليے بہتر اور اچھى ہو، اور ہو سكتا ہے تم ايك چيز كو پسند كرو اور تمہارے
ليےبرى ہو، اللہ تعالى جانتا ہے اور تم نہيں جانتے} البقرۃ ( 216 )
جہاد كا حكم:
علماء كرام نے جہاد كا حكم ذكر كرتے
ہوئے اس كى دو قسميں بنائى ہيں:
1 - ہجومى جہاد:
اگر كفار اسلام كے حكم كے سامنے
سرنگوں ہونا قبول نہ كريں تو كفار كے علاقوں ميں آگے بڑھ كر انہيں دعوت اسلام دينا
اور انہيں تلاش كرنا.
مسلمانوں پر جہاد كى يہ قسم فرض
كفايہ ہے.
فرمان بارى تعالى ہے:
اور تم ان سے قتال كرو حتى كہ فتنہ (
شرك ) باقى نہ رہے اور سارے كا سارا دين اللہ كا ہى ہو كر رہ جائے، اور اگر وہ باز
آجائيں تو اللہ تعالى جو كچھ وہ عمل كر رہے ہيں ديكھنے والا ہے الانفال ( 39 ).
اور ايك دوسرے مقام پر ارشاد ربانى
ہے:
{پھر حرمت والے مہينوں كے گزرتے ہى
مشركوں كو جہاں پاؤ قتل كرو، انہيں گرفتار كرو، ان كا محاصرہ كرلو، اور ان كى تاك
ميں ہر گھاٹى ميں جا بيٹھو، ہاں اگر وہ توبہ كرليں اور نماز كے پابند ہو جائيں اور
زكاۃ ادا كرنے لگيں تو تم ان كى راہيں چھوڑ دو، يقينا اللہ تعالى بخشنے والا مہربان
ہے} التوبۃ ( 5 ).
اور ايك مقام پر اللہ عزو جل نے
فرمايا:
{اور تم تمام مشركوں سے اسى طرح قتال
اور جنگ كرو جس طرح وہ تم سب سے جنگ كرتے ہيں، اور جان لو كہ اللہ تعالى متقيوں كے
ساتھ ہے} التوبۃ ( 36 ).
اور ايك مقام پر اللہ رب العزت كا
فرمان ہے:
{ہلكے ہو تب بھى نكلو، اور بوجھل تو
بھى نكلو، اور اپنے مالوں اور جانوں كے ساتھ اللہ تعالى كے راستے ميں جہاد كرو
تمہارے ليے يہ بہتر ہے اگر تم جانتے ہو} التوبۃ ( 41 ).
اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا
فرمان ہے:
" مجھے اس وقت تك جنگ كرنے كا حكم
ديا گيا ہے جت تك لوگ يہ گواہى نہ دينے لگيں كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود
برحق نہيں، اور يقينا محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں، اور نماز
قائم كرنے لگيں، اور زكاۃ ادا كرنے لگيں، لھذا جب وہ يہ كام كرنے لگيں گے تو انہوں
نے مجھ سے اپنے خون اور اپنے مال محفوظ كر ليے مگر اسلام كے حق كے ساتھ، اور ان كا
حساب اللہ تعالى كے سپرد"
صحيح بخارى حديث نمبر ( 24 ) صحيح
مسلم حديث نمبر ( 2831 ).
اور مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابو
ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے
فرمايا:
" جو اس حالت ميں فوت ہوا كہ نہ تو
اس نے جہاد كيا اور نہ ہى اس كے دل ميں جہاد كرنے كى خواہش پيدا ہوئى تو وہ نفاق كى
قسم پر فوت ہوا"
صحيح مسلم حديث نمبر ( 3533 ).
يہ سب نصوص اور دلائل - اور اس كے
علاوہ بھى كتاب و سنت ميں بہت سے دلائل ہيں - مسلمانوں پر كفار كے خلاف جہاد كى
ابتدا كرنا فرض كرتے ہيں.
اور علماء كرام كا اجماع ہے كہ اگر
كفار دعوت اسلام قبول نہ كريں، يا جزيہ دينے سے انكار كرديں تو ان سے جہاد و قتال
كرنا، اور ان كے علاقوں ميں جا كر انہيں تہ تيغ كرنا، اور انہيں دعوت اسلام دينا
فرض اور محكم حكم ہے منسوخ نہيں.
شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى كہتے
ہيں:
لہذا ہر وہ شخص جسے اللہ تعالى كے
رسول صلى اللہ عليہ وسلم كى دين اسلام جسے دے كر اللہ تعالى نے انہيں مبعوث كيا ہے
كى دعوت پہنچى ہو اور وہ اسے قبول نہ كرے تو اس كے خلاف اس وقت تك لڑنا فرض ہے جب
تك فتنہ باقى نہ رہے اور سارے كا سارا دين اللہ تعالى كا ہى ہو جائے. اھـ
ديكھيں: مجموع فتاوى ابن تيميۃ ( 28
/ 349 ).
اور ابن عطيہ رحمہ اللہ تعالى كہتے
ہيں:
اور اس پر اجماع ابھى تك جارى ہے كہ
امت محمديہ صلى اللہ عليہ وسلم پرجہاد كرنا فرض كفايہ ہے، لھذا جب مسلمانوں ميں سے
كچھ لوگ جہاد كا فريضہ ادا كر رہے ہوں تو باقى افراد سے ساقط ہو جائے گا. اھـ
ديكھيں ابن عطيۃ ( 2 / 43 ).
2 - دفاعى جہاد:
جب كفار مسلمان علاقوں اور ممالك ميں
آكر قبضہ كرليں اور اس كا كنٹرول سنبھال ليں، يا مسلمانوں كے خلاف جنگ كى تيارى
كريں، تو اس صورت ميں مسلمانوں پر ان سے جنگ كرنا فرض ہو جاتى ہے حتى كہ ان كا شر
ختم ہو، اور ان كى تدبيريں اور چالبازياں روكى جائيں.
علماء كرام كے اجماع كے مطابق اور
دفاعى جہاد مسلمانوں پر فرض عين ہے.
قرطبى رحمہ اللہ تعالى اپنى تفسير
ميں لكھتے ہيں:
جب كسى بھى علاقے پر دشمن كا قبضہ
اور غلبہ ہوجانے كى بنا پر جہاد فرض عين ہو جائے، يا علاقے ميں داخل ہو جانے كى بنا
پر، اگر واقعى ايسا ہو تو اس علاقے اور ملك كے سب لوگوں پر جہاد فرض عين ہو جائے
گا، اور وہ سب اس جہاد ميں جائيں گے چاہے ہلكے ہوں يا بوجھل، نوجوان ہوں يا بوڑھے
ہر كوئى اپنى استطاعت كے مطابق جہاد كرے، جس كا باپ ہو وہ باپ كى اجازت كے بغير
جہاد ميں جائے، اور جس كا باپ نہيں وہ بھى جہاد ميں جائے جو كوئى بھى جہاد پرجانے
كى استطاعت ركھتا ہے وہ پيچھے نہ رہے، چاہے وہ قتال كرنے والا ہو يا تعداد زيادہ
كرنے والا.
اور اگر اس ملك اور علاقے كے لوگ
اپنے دشمن كا مقابلہ كرنے سے عاجز ہو جائيں تو ان كے رشتہ داروں اور پڑوس ميں بسنے
والوں پر بھى اس طرح نكلنا واجب ہو گا جس طرح اس علاقہ كے لوگوں پر واجب تھا، تا كہ
دشمن كو علم ہو جائے كہ ان ميں دفاع كرنےاور دشمن كا مقابلہ كرنے كى طاقت ہے.
اور اسى طرح اس پر بھى جہاد فرض ہو
گا جسے علم ہو جائے كہ اس علاقہ كے لوگ دشمن سے دفاع كى طاقت نہيں ركھتے، اور اسے
علم ہو كہ وہ وہاں پہنچ كر ان كى مدد كر سكتا ہے تو ايسے شخص پر بھى جہاد فرض ہو گا
لھذا سب مسلمان اپنے علاوہ دوسروں كے ليے بھى مددگار ہيں، حتى كہ جب اس علاقے كے
لوگ جہاں دشمن نے حملہ كيا اور دشمن پہنچ گيا ہو وہ دفاع كرليں تو دوسرے مسلمانوں
سے فرض ساقط ہو جاتا ہے، اور اگر دشمن دارالاسلام كے قريب پہنچ جائے اور ابھى اس
ميں داخل نہ ہوا ہو تو بھى دشمن كے مقابلہ كا ليے نكلنا فرض ہے، حتى كہ دين اسلام
كو اللہ تعالى غالب اور ظاہر كر دے، اور ان كى قوت كى حفاظت كرے، اور ان كى حفاظت
ہو، اور دشمن كو ذليل و رسوا كر دے، اس ميں كوئى اختلاف نہيں ہے.
ديكھيں: تفسير قرطبى ( 8 / 15 ).
اور شيخ الاسلام رحمہ اللہ تعالى
كہتے ہيں:
اور اگر دشمن مسلمانوں پر حملہ كرنے
كا ارادہ كر رہا ہو تو پھر ان لوگوں پر دفاع كرنا واجب ہو جاتا ہے، دشمن نے جن كا
قصد اور ارادہ كيا ہو، اور جن پر دشمن نے حملہ كرنے كا ارادہ نہيں كيا ان پر دوسروں
كى مدد كرنا واجب ہے.
جيسا كہ فرمان بارى تعالى ہے:
اور اگر وہ تم سے دين ميں مدد طلب
كريں تو تمہيں ان كى مدد كرنا چاہيے، ليكن اس قوم كے مقابلہ ميں نہيں جس اور تمہارے
مابين معاہدہ ہے الانفال ( 72 ).
اور جيسا كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ
وسلم نے بھى مسلمان كى مدد و نصرت كرنے كا حكم ديا ہے:
يہ ہر ايك شخص پر اس كے حسب حال ہو
گا كہ وہ اپنے مال اور جان سے دوسرے مسلمانوں كى مدد كرے...
جيسا كہ جب دشمن نے خندق والے سال
مسلمانوں پر حملہ كرنے كا ارادہ كيا تو اللہ تعالى نے كسى ايك كو بھى اسے ترك كرنے
كى اجازت نہيں دى..
بلكہ جنہوں نے نبى كريم صلى اللہ
عليہوسلم كو يہ كہہ كر اجازت طلب كى كہ ان كے گھر غير محفوظ ہيں حالانكہ وہ غير
محفوظ نہيں تھے، وہ تو صرف فرار ہونے پر اصرار كر رہے تھے، تو اللہ تعالى نے ان كى
مذمت كى اور يہ لوگ قابل مذمت ٹھرے، تو يہ دين اور حرمت اور جانوں كا دفاع ہے، جو
كہ اضطرارى قتال اور لڑائى ہے. اھـ
ديكھيں: مجموع فتاوى ابن تيميۃ ( 28
/ 358 - 359 ).
اسلام ميں جہاد بالنفس كا حكم يہ ہے،
كفار سے دين اسلام ميں داخل ہونے كا مطالبہ كيا جائے، اور انہيں ذليل و رسوا كر كے
اسلامى احكامات كے تابع اور ماتحت كيا جائے، اور مسلمانوں كى حرمت اور ان كے دين كا
دفاع كيا جائے.
اللہ تعالى سے ہمارى دعا ہے كہ وہ
مسلمانوں كو اپنے دين كى طرف بہتر اور اچھى طرح سے واپس لائے.
واللہ اعلم .