3347



ادب سكھانے كے ليے بچے كو مارنا اور بيوى كو سزا كا اشارہ كرنا
كيا ہاتھ يا لاٹھى سے بيٹے كو مارنا معصيت و نافرمانى ہے ميں ايسا اس وقت كرتا جب محسوس كروں كہ بچہ ميرى بات نہيں مان رہا اور كئى بار اسے سمجھايا بھى ہے، اور كيا بيوى پر ہاتھ اٹھا بھى معصيت شمار ہو گا، بعض اوقات ميں محسوس كرتا ہوں كہ ايسا ضرور كرنا چاہيے ليكن وہ اس حد تك نہيں پہنچى ؟
اور جب ميں بچے كو مارتا ہوں تو اپنے اندر ندامت سى محسوس كرتا ہوں، پھر اگر ميرا عمل غلط ہو تو ميں اللہ سبحانہ و تعالى سے بخشش و مغفرت طلب كرتا ہوں، كيا كوئى ايسى دعا ہے جو روزانہ پڑھوں تا كہ اللہ تعالى ميرى اولاد كو ہدايت اور سمجھ عطا فرمائے اور ان كے عقيدہ كو پختہ كرے ؟

الحمد للہ:

باپ كو چاہيے كہ وہ اپنى اولاد كى اچھى اور بہتر تربيت و پرورش كرے اور ان كى ديكھ بھال كرے يہ اس پر فرض ہے، اور جب تربيت و پرورش كے ليے مار ضرورى ہو تو يہ تربيت كا ايك وسيلہ شمار ہو گا، اور پھر نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے بھى حكم ديا ہے كہ جب بچہ دس برس كا ہو جائے اور وہ نماز ادا نہ كرے تو اسے مارا جائے.

ليكن يہ مار كا وسيلہ آخرى چيز ہونى چاہيے، يعنى جب ہر قسم كا ذريعہ اور وسيلہ فائدہ مند نہ ہو تو پھر مار كا وسيلہ اختيار كيا جا سكتا ہے ليكن اس ميں بھى زيادہ شدت نہ ہو اور چہرے پر نہ مارا جائے، اور باپ كو شديد غصہ كى حالت ميں نہيں ہونا چاہيے، اور نہ ہى وہ كسى تيز دھار آلے سے مارے جو اسے زخمى كر دے، اور كوئى ہڈى توڑ دے اور نہ ہى اسے كسى ايسى جگہ مارے جہاں مارنے سے قتل ہونے كا خدشہ ہو.

اور لاٹھى و ڈنڈے وغيرہ سے مارنے كا اشارہ كرنا ہى بعض اوقات مارنے سے زيادہ فائدہ مند ہوتا ہے، مقصد يہ ہے كہ والد كو چاہيے كہ وہ بچے كى تربيت كرنے اور اسے ادب سكھانے ميں آسان سے آسان ترين قاعدہ اور اصول استعمال كرے، اور اسے مشكل اور شديد ترين وسيلہ كو نہيں اپنانا چاہيے جبكہ اس كے ليے كسى آسان اور ہلكے وسيلہ كو اختيار كرنا ممكن ہو.

رہا بيوى كو چہرے پر مارنا تو يہ بيوى كو سيدھا كرنے كے ليے سب سے پہلا وسيلہ اور ذريعہ نہيں، بلكہ يہ ضرورى ہے كہ مارنے سے قبل اسے وعظ و نصيحت كى جائے اور سمجھائيں اگر اس سے كوئى فائدہ نہ ہو تو پھر اس كو بستر ميں عليحدہ كر ديا جائے، اور اگر اس سے بھى فائدہ نہ ہو پھر اسے مارا جائے ليكن يہ مار شديد نہ ہو.

جيسا كہ اللہ تعالى كا فرمان ہے:

﴿ اور جن عورتوں كى نافرمانى اور بددماغى كا تمہيں خوف ہو انہيں نصيحت كرو اور انہيں الگ بستروں پر چھوڑ دو اور انہيں مار كى سزا دو پھر اگر وہ تابعدارى كريں تو ان پر كوئى راستہ تلاش نہ كرو، بے شك اللہ تعالى بڑى بلندى اور بڑائى والا ہے ﴾النساء ( 34 ).

اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے خبر دى ہے كہ جو لوگ اپنى بيويوں كو مارتے ہيں وہ اچھے لوگ نہيں ہيں آپ صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

" محمد صلى اللہ عليہ وسلم كے گھر والوں كے پاس بہت سارى عورتيں آئى ہيں جو اپنے خاوندوں كى شكايت كر رہى تھيں يہ تم ميں كوئى اچھے لوگ نہيں ہيں "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 2146 ) علامہ البانى رحمہ اللہ نے صحيح الجامع حديث نمبر ( 5137 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.

رہا اولاد كى ہدايت كا مسئلہ ہے تو والدين كے ذمہ تو اس كے ليے موجود اسباب مہيا كرنا واجب ہے، انہيں وہ تعليم دے اور نصيحت كرے اور انہيں برى مجلس اور برے دوستوں سے بچا كر ركھے، اور انہيں نيك و صالح افراد سے مربوط كرے، اور ان كے ساتھ اچھا سلوك كرے، اور ان كى اصلاح اور ہدايت كى دعا كرتا رہے ذيل ميں كچھ دعائيں پيش كرتے ہيں:

فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ والذين يقولون ربنا هب لنا من أزواجنا وذرياتنا قرة أعين ﴾

اور وہ لوگ جو يہ دعا كرتے ہيں: اے ہمارے پروردگار ہميں ہمارى بيويوں اور ہمارى اولاد سے آنكھوں كى ٹھنڈك عطا فرما.

اور فرمان بارى تعالى ہے:

﴿ وأصلح لي في ذريتي ﴾

اور ميرى اولاد كى اصلاح فرما.

اور كوئى بھى اچھى دعا كى جا سكتى ہے، ليكن دعا كے ساتھ ساتھ ان كى اصلاح تك لے جانے والے اسباب بھى مہيا كرنا ضرورى ہيں.

اللہ تعالى ہى سيدھى راہ كى ہدايت دينے والا ہے.

واللہ اعلم.


الشيخ محمد صالح المنجد



 
 
 
 
سب حقوق اسلام سوال و جواب ويب سائٹ كے ليے محفوظ ہيں ©  1997-2009  : 134.4