128101



جب كوئى شخص اپنى نانى كا دودھ پئے تو وہ اپنے ماموں اور خالہ كا بھائى بن جائيگا
ميرے بيٹے نے اپنى نانى كا دودھ پيا ہے، تو كيا اس كے ليے اپنے ماموں اور خالہ كى بيٹى سے نكاح كرنا جائز ہو گا ؟

الحمد للہ:

اگر تو مذكورہ بچے نے اپنى نانى كا دودھ پانچ رضاعت يا زيادہ دو برس كى عمر ميں پيا تو اس طرح وہ اپنے ماموں اور خالہ كا رضاعى بھائى بن گيا، اور اپنے ماموں كى اولاد كا رضاعى چچا اور اپنى خالہ كى اولاد كا رضاعى ماموں بن جائيگا.

اس بنا پر وہ اپنے ماموں كى بيٹيوں سے شادى نہيں كر سكتا كيونكہ وہ ان كا رضاعى چچا ہے، اور اپنى خالہ كے بيٹيوں سے بھى شادى نہيں كر سكتا كيونكہ وہ ان كا رضاعى ماموں بنتا ہے، اللہ تعالى ہى توفيق بخشنے والا ہے " انتہى.


ديكھيں: مجموع فتاوى ابن باز ( 22 / 306 ).



 
 
 
 
سب حقوق اسلام سوال و جواب ويب سائٹ كے ليے محفوظ ہيں ©  1997-2009  : 133.68